30 جنوری 2013 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات روکنے کا کبھی بھی مطالبہ نہیں کیا ہے۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے یہ بات کل تہران میں عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے دونوں فریقوں کے مشترکہ اہداف تک پہنچنے کے لئےگروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے پر ہمیشہ تاکید کی ہے اور ان مذاکرات کو روکنے کا کبھی بھی مطالبہ نہیں کیا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے سابقہ عمل سے پتہ چلتا ہے کہ فریق مقابل نے ہی ہمیشہ مذاکرات معطل کئے ہیں لیکن اس نے ذرائع ابلاغ کو استعمال کرکے اس طرح کا پروپیگنڈا کیا ہے کہ تہران مذاکرات سے گریز کررہا ہے۔انہوں نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اگلے دور کے مذاکرات کے وقت اور مقام کے بارے میں کہا کہ ہمیشہ کے معمول کے مطابق مذاکرات کے وقت اور مقام سے متعلق دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق کے بعد اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے وقت اور مقام کے بارے میں دونوں فریقوں کی مختلف تجاویز کو فطری چیز قراردیا اور کہا کہ مصر، قزاقستان، ترکی، سوئیڈن اور سوئٹزرلینڈ ان مذاکرات کی میزبانی کے خواہاں ممالک میں شامل ہیں۔انہوں نےبحران شام کے حل کے بارے میں ایرانی منصوبے کے بارے میں کہا کہ ایران بہت سے ممالک کے ساتھ بدستور بھرپور صلاح و مشورہ کررہا ہے تاکہ حکومت شام اور اس کے مخالفین کو عبوری حکومت کی تشکیل سے متعلق گفتگو کے لئے تیار کرسکے اور بحران شام اغیار کی مداخلت کے بغیر اور شامی عوام کے ذریعہ حل ہو۔

.......

/169